پاکستانی گلوکار عاطف اسلم نے کوک اسٹوڈیو پاکستان اور کوک اسٹوڈیو بھارت کے درمیان فرق پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ عاطف اسلم کوک اسٹوڈیو سے متعلق ان کے تبصرے نے موسیقی کے مداحوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
میرچی یو اے ای کو حالیہ انٹرویو میں عاطف اسلم سے پوچھا گیا کہ پاکستانی کوک اسٹوڈیو کو بھارتی ورژن پر کیا برتری حاصل ہے۔ گلوکار نے مسکراتے ہوئے ایک لفظ میں جواب دیا، ’’جادو‘‘۔
عاطف اسلم نے کہا کہ دونوں جانب کی موسیقی کی کمپوزیشن اچھی ہے، تاہم بھارتی موسیقی میں وہ خام پن نظر نہیں آتا جو پاکستانی موسیقی میں موجود ہے۔ ان کے مطابق کوک اسٹوڈیو بھارت کمرشل ازم پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے۔
گلوکار نے وضاحت کی کہ عاطف اسلم کوک اسٹوڈیو کا تجربہ اصل اور منفرد کمپوزیشن کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی کوک اسٹوڈیو میں چند افراد مل کر کمپوزیشن تیار کرتے ہیں اور فنکار کو اپنی تخلیقی صلاحیت شامل کرنے کی آزادی بھی ملتی ہے۔
عاطف اسلم کوک اسٹوڈیو پاکستان کا اہم حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے شو میں تاجدار حرم اور وہی خدا ہے جیسے یادگار گیت پیش کیے، جبکہ کئی جدید پاپ اور فیوژن گانوں سے بھی مداحوں کو محظوظ کیا۔
عاطف اسلم کی بھارت میں بھی بڑی تعداد میں مداح موجود ہے۔ انہوں نے 2005 کی فلم زہر کے گیت ’’وہ لمحے‘‘ سے بھارتی فلمی موسیقی میں نمایاں شناخت بنائی۔ بعد میں تیرے بن، پہلی نظر میں، تو جانے نہ اور دل دیاں گلاں جیسے مقبول گیت بھی گائے۔
عاطف اسلم کوک اسٹوڈیو سے متعلق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گلوکار 19 سال کے وقفے کے بعد اپنے نئے البم کے ساتھ واپس آئے ہیں۔ آٹھ گانوں پر مشتمل یہ البم ان کے مطابق روایتی انداز سے ہٹ کر موسیقی پیش کرنے کی کوشش ہے۔