اعظم نذیر تارڑ

دو تہائی اکثریت ہو تو نئے صوبے بن سکتے ہیں، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں اور پارلیمنٹ نئے صوبے بنانے پر متفق ہوں تو آئینی طریقہ کار کے تحت دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ آئینی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر متعلقہ اسمبلیاں اور پارلیمنٹ اس حوالے سے فیصلہ کریں تو دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔

آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہاں سب سے بڑا مسئلہ انتخابات کا انعقاد تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات پرامن اور شفاف انداز میں ہوئے۔

اعظم نذیر تارڑ نے صوبوں کے معاملے پر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جب صوبائی اسمبلیاں اور پارلیمنٹ نئے صوبوں کے قیام کی خواہش کا اظہار کریں گی تو آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت سے اس مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم متعدد مرتبہ اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب سے متعلق سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس عہدے کے لیے امیدوار کا انتخاب کرنے کا حق نواز شریف کو حاصل تھا۔ ان کا بیان آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام ایک طویل عرصے سے سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع رہا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ کے حالیہ بیان نے ایک مرتبہ پھر اس بحث کو نمایاں کر دیا ہے کہ آئینی طریقہ کار اور مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین