عائشہ عمر تصویر کی بنیاد پر بدسلوکی

عائشہ عمر کا تصویر کی بنیاد پر بدسلوکی کے اثرات پر انکشاف

پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی نجی تصاویر غیر رضامندی کے ساتھ آن لائن شیئر ہونے کے بعد ان کی پیشہ ورانہ زندگی اور ذہنی صحت پر گہرا اثر پڑا۔ یہ بات انہوں نے بی بی سی گلوبل ویمن کی ایک رپورٹ میں کہی جس میں آن لائن ہراسانی کے مسائل پر بات کی گئی۔

عائشہ عمر تصویر کی بنیاد پر بدسلوکی کے حوالے سے اداکارہ نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے دورے کے دوران لی گئی ان کی نجی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر پھیلائی گئیں۔ ان کے مطابق یہ تصاویر ذاتی نوعیت کی تھیں لیکن ان کے لیک ہونے سے ان کی زندگی متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد انہیں شوبز انڈسٹری میں کئی کاموں سے محروم ہونا پڑا۔ عوامی ردعمل اور تنقید کی وجہ سے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہوئی اور انہیں اپنے کام کی بجائے ذاتی تصاویر کی بنیاد پر جانچا گیا۔

عائشہ عمر نے یہ بھی بتایا کہ اس تجربے نے ان کی ذہنی صحت کو بھی متاثر کیا۔ ان کے مطابق وہ اس واقعے کے بعد مسلسل ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار رہیں اور ہر وقت اپنی حفاظت کے بارے میں فکر مند رہنے لگیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تصویر کی بنیاد پر بدسلوکی صرف نازیبا یا برہنہ تصاویر تک محدود نہیں بلکہ کسی بھی نجی تصویر کو بغیر اجازت شیئر کرنا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس میں رضامندی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں خواتین کو اس قسم کی آن لائن ہراسانی کا سامنا ہے جو ان کی سماجی اور ذاتی زندگی پر طویل مدتی اثرات ڈالتی ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عائشہ عمر اور دیگر متاثرہ خواتین کے کیسز ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں پرائیویسی کی خلاف ورزی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین