چین ایران جنگ بندی حمایت کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
چین ایران جنگ بندی حمایت کا اعادہ اس وقت سامنے آیا جب وانگ یی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خطے میں امن مذاکرات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال جنگ اور امن کے درمیان ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور امن کے لیے ایک موقع پیدا ہو رہا ہے جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
Chinese FM Wang Yi held a phone conversation with Iranian FM Seyed Abbas Araghchi.
The current situation has reached a critical stage between war and peace, and a window for peace is opening. China supports maintaining the momentum of ceasefire and peace talks. Iran’s… pic.twitter.com/J9BPBmL5cz
— Lin Jian 林剑 (@SpoxCHN_LinJian) April 16, 2026
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی خودمختاری اور جائز حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی اور سلامتی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
چین ایران جنگ بندی حمایت میں یہ بھی شامل ہے کہ بیجنگ مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے چار نکاتی امن منصوبے کے تحت کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
دوسری جانب پاکستان بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان رابطہ قائم رکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کی اس حمایت سے خطے میں امن کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی اور جنگ بندی کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔