ایرانی کارگو جہاز تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ بیجنگ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور غیر حقیقی قرار دیا ہے۔
چینی حکام کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج کے زیر قبضہ ایرانی پرچم بردار جہاز دراصل چین کی جانب سے ایران کو دیا گیا ایک “تحفہ” تھا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے واضح کیا کہ ایرانی کارگو جہاز تنازع کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور اسے بین الاقوامی تجارت کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
چین نے کہا کہ وہ ایک ذمہ دار عالمی طاقت ہے اور بین الاقوامی قوانین اور تجارتی اصولوں کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔ ایسے بے بنیاد دعوے عالمی تجارتی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بیجنگ نے مزید کہا کہ وہ ہر ایسے دعوے کو مسترد کرتا ہے جو حقائق پر مبنی نہ ہو اور عالمی تجارت کو سیاسی تنازعات کا حصہ بنانے کی کوشش کرے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جہاز اب بھی امریکی تحویل میں ہے، اور یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب جہاز نے آبنائے ہرمز میں ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
ایرانی کارگو جہاز تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ رہی ہے اور بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔