اسلام آباد حلقہ بندی دستاویزات کی فراہمی کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے وزارت داخلہ اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو تین دن کی نئی مہلت دے دی ہے۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ اس سے قبل دی گئی 10 روزہ مہلت ختم ہو چکی ہے، لیکن مطلوبہ ریکارڈ اب تک جمع نہیں کرایا گیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ فوری نوعیت کے خط میں سیکریٹری داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو مخاطب کیا گیا۔ خط میں 13 مئی 2026 کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے ضروری حلقہ بندیوں کا عمل مطلوبہ معلومات کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
ای سی پی کے مطابق کئی اہم اسلام آباد حلقہ بندی دستاویزات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔ ان میں ٹاؤن کارپوریشنز کی حدود کے نوٹیفکیشن، ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسلوں کی تعداد اور مردم شماری کے چارجز، سرکلز اور بلاکس پر مشتمل تصدیق شدہ نقشے شامل ہیں۔
کمیشن نے واضح کیا کہ یہ دستاویزات مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ مطلوبہ معلومات کی عدم فراہمی کے باعث حلقہ بندیوں کا عمل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے یاد دلایا کہ اس سے قبل دی گئی 10 روزہ مہلت گزر چکی ہے۔ تازہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام نوٹیفکیشنز اور اپ ڈیٹ شدہ نقشے تین دن کے اندر کمیشن کو فراہم کیے جائیں۔
کمیشن نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے مجوزہ قانون سازی پر غور کی درخواست کی جا سکتی ہے جبکہ قواعد میں ترمیم کے معاملات کابینہ کے ذریعے آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔
اسلام آباد حلقہ بندی دستاویزات کا معاملہ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی عمل میں مزید تاخیر سے بچنے پر زور دیا۔