کراچی میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق ملزمہ 2022 میں لاہور پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہوگئی تھی۔
لاہور پولیس کے مطابق 7 جنوری 2022 کو شاداب کالونی میں منشیات سپلائی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ اس دوران پنکی کا بھائی ریاض بلوچ ایک لگژری گاڑی سے منشیات دینے کے لیے اترا تو پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسی گاڑی میں موجود انمول عرف پنکی موقع سے گاڑی بھگا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ بعد ازاں ریاض بلوچ کے خلاف منشیات کا مقدمہ درج کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پنکی اپنے بھائیوں کے ساتھ کوٹ لکھپت کی ایک نجی کالونی میں رہائش پذیر تھی۔ پنجاب پولیس کے مطابق اس کے نام پر اس سے قبل کوئی کرمنل ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج سید عمران رضا نقوی نے 4 اپریل 2022 کو ریاض بلوچ کو مقدمے سے بری کردیا تھا، جبکہ پولیس نے اس کیس کا چالان عدالت میں پیش کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کا تعلق کراچی کے علاقے نگار گوٹھ بلوچ پاڑہ سے ہے اور اس نے 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن کی ڈانس پارٹیوں میں منشیات سپلائی کرنے کا آغاز کیا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنا نیٹ ورک مزید وسیع کرلیا۔
مزید اطلاعات کے مطابق کراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی اور وہیں سے مبینہ طور پر منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمہ لاہور میں کپڑوں کے کاروبار سے بھی وابستہ ہے۔