اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ایشیا پیسفک معاشی آؤٹ لک اقوام متحدہ رپورٹ متاثر ہو رہا ہے، جس سے مہنگائی اور توانائی کے بحران میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا پیسفک کے مطابق خطے کی ترقی پذیر معیشتیں 2025 میں 4.6 فیصد اور 2026 میں 4 فیصد تک سست روی کا شکار ہو سکتی ہیں، جو ایشیا پیسفک معاشی آؤٹ لک اقوام متحدہ رپورٹ کا اہم حصہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عالمی طلب میں کمی خطے میں مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھا رہی ہیں، جو ایشیا پیسفک معاشی آؤٹ لک اقوام متحدہ رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی تجارتی راستوں اور اجناس کی فراہمی کو متاثر کر رہی ہے، جس سے معاشی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، اور یہ ایشیا پیسفک معاشی آؤٹ لک اقوام متحدہ رپورٹ کا اہم نکتہ ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق کم آمدنی والے افراد اور کم ہنر مند مزدور سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ مہنگائی بڑھنے کے باوجود سماجی تحفظ محدود ہے، جو ایشیا پیسفک معاشی آؤٹ لک اقوام متحدہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلند قرضے اور شرح سود میں اضافہ حکومتوں کی معاشی مشکلات بڑھا سکتا ہے، جو ایشیا پیسفک معاشی آؤٹ لک اقوام متحدہ رپورٹ کا حصہ ہے۔
اقوام متحدہ نے تجویز دی ہے کہ ممالک کو مقامی طلب بڑھانے، قابل تجدید توانائی کے فروغ اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے، جیسا کہ ایشیا پیسفک معاشی آؤٹ لک اقوام متحدہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔