یورپ گرمی کی لہر اموات کی تعداد 3,700 سے تجاوز کر گئی ہے، جہاں فرانس، بیلجیئم اور نیدرلینڈز نے شدید گرمی کے باعث ہزاروں اضافی اموات رپورٹ کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور مزید معلومات سامنے آنے کے بعد تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
جون کے آخری ہفتے میں آنے والی شدید گرمی کی لہر کو ماہرین نے یورپ کی تاریخ کی بدترین ہیٹ ویوز میں سے ایک قرار دیا ہے۔ غیر معمولی درجہ حرارت نے بجلی کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور صحت کے نظام پر شدید دباؤ ڈالا، جبکہ کئی علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔
فرانس میں سب سے زیادہ 2,025 اضافی اموات رپورٹ ہوئیں۔ حکام کے مطابق 45 سال سے زائد عمر کے افراد زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ گھروں، نرسنگ ہومز اور طبی مراکز میں اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
بیلجیئم میں 18 سے 29 جون کے دوران تقریباً 1,200 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ وزارت صحت کے مطابق ان میں سے 530 افراد کی عمر 85 برس یا اس سے زیادہ تھی، تاہم کم عمر افراد بھی اس شدید گرمی سے متاثر ہوئے۔ حکام نے اسے ملک کی تاریخ میں گرمی کی لہر کے دوران غیر معمولی صورتحال قرار دیا۔
نیدرلینڈز میں حکام نے شدید گرمی سے منسلک تقریباً 480 اضافی اموات کی تصدیق کی، جن میں زیادہ تر متاثرین کی عمر 80 سال سے زائد تھی۔ متعلقہ ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور مزید اعداد و شمار جمع کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ گرمی کی لہر اموات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، جس نے شدید اور طویل دورانیے کی گرمی کی لہروں کے امکانات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
یورپ گرمی کی لہر اموات میں اضافے کے بعد ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے اور بزرگوں سمیت حساس آبادی کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کریں تاکہ مستقبل میں جانی نقصان کو کم کیا جا سکے۔