بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا ایران جوہری معاہدہ پر عملدرآمد کے لیے ضروری عملی اقدامات طے کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سامنے آئی ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
جنیوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے کہا کہ ادارہ جلد امریکا اور ایران کے حکام کے ساتھ بیٹھ کر معاہدے پر عملدرآمد کے لیے درکار تکنیکی مراحل پر کام شروع کرے گا۔ ان کے مطابق اس عمل میں تفصیلی منصوبہ بندی اور تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
امریکا ایران جوہری معاہدہ کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی افزودگی کی سطح کم کرے گا، جس کی نگرانی آئی اے ای اے کرے گی۔ معاہدے میں ممکنہ طور پر یورینیم کو مقامی سطح پر کم افزودہ کرنے کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔
رافیل گروسی نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ تکنیکی عمل ہے جس کے لیے شفاف نگرانی اور واضح طریقہ کار ضروری ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کی سیاسی خواہش اور تعاون پر ہوگا۔
آئی اے ای اے کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود تھا جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا تھا۔ گزشتہ کشیدگی کے بعد ایران نے ادارے کے ساتھ تعاون محدود کر دیا تھا، جس کے باعث معائنہ کاروں کو مکمل رسائی حاصل نہیں رہی۔
ماہرین کے مطابق امریکا ایران جوہری معاہدہ ایک عبوری فریم ورک ہے جس کا مقصد مستقبل میں زیادہ جامع مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ آئندہ بات چیت میں جوہری نگرانی، شفافیت اور طویل مدتی انتظامات پر توجہ دی جائے گی۔
آئی اے ای اے نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ادارے کے کردار کو تسلیم کیا جانا اس کی غیرجانبداری اور ساکھ کا ثبوت ہے۔ ادارے کے مطابق اب اصل مرحلہ امریکا ایران جوہری معاہدہ میں طے شدہ نکات کو عملی شکل دینا اور پائیدار پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔