عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ سعودی حملوں کے عالمی معاشی اثرات دنیا بھر کے ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث عالمی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے بدھ کے روز بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب کی علاقائی اور عالمی معیشت میں اہمیت کو اجاگر کیا۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ سعودی عرب سے متعلق حالیہ واقعات کے منفی اثرات دنیا بھر کے لوگوں اور معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور تیل سے مالا مال مشرق وسطیٰ میں کئی تنازعات جاری ہیں۔
سعودی عرب عالمی توانائی کی منڈی میں اہم مقام رکھتا ہے کیونکہ وہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ ملک کو متاثر کرنے والے کسی بھی واقعے سے تیل کی فراہمی، عالمی منڈیوں کے استحکام اور ایندھن کی قیمتوں کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
سعودی حملوں کے عالمی معاشی اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔ توانائی مہنگی ہونے سے کاروباری اداروں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ ایندھن اور نقل و حمل کی زیادہ قیمتوں کا بوجھ عام صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس صورت حال سے ضروری اشیا اور خدمات کی قیمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان ممالک کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایندھن اور نقل و حمل مہنگی ہونے سے پیداوار کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، تجارت متاثر ہو سکتی ہے اور حکومتی بجٹ پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان اثرات کی شدت کا انحصار آئندہ صورت حال پر ہوگا۔
کرسٹالینا جارجیوا کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے معاشی اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی عالمی معیشت میں اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہاں ہونے والی پیش رفت دوسرے ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس صورت حال کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں اور معاشی استحکام پر نظر رکھنا اہم ہے۔