امریکا سعودی عرب دفاعی معاہدہ

امریکا کی سعودی عرب کو 5 ارب ڈالر کے JDAM-ER بم فروخت کرنے کی منظوری

واشنگٹن: امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز-ایکسٹینڈڈ رینج (JDAM-ER) کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ دفاعی معاہدے کا مقصد سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو جاری بیان میں بتایا کہ اس دفاعی پیکیج کا بنیادی ٹھیکہ بوئنگ کو دیے جانے کی توقع ہے۔ JDAM-ER ایسے گائیڈڈ ہتھیار ہیں جو فضائی حملوں میں زیادہ درستگی اور بہتر رینج فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے یہ معاہدہ اس کی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مجوزہ فروخت سے سعودی عرب کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ سعودی مسلح افواج کی تیاری، آپریشنل ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت اور امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔ تاہم کسی بھی بڑے امریکی دفاعی معاہدے کی طرح یہ فروخت بھی متعلقہ قانونی اور انتظامی مراحل سے مشروط ہے۔

دوسری جانب امریکا نے سعودی عرب کو 750 ملین ڈالر مالیت کے AGT-150 انجنوں کی ممکنہ فروخت کی بھی منظوری دی ہے۔ اس معاہدے کا ٹھیکہ Honeywell کو ملنے کی توقع ہے۔ AGT-150 انجن فوجی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں میں استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے یہ معاہدہ سعودی عرب کی زمینی دفاعی صلاحیتوں کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے اپنی دفاعی اور فوجی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بھی دونوں ممالک کے وسیع تر تزویراتی اور سیکیورٹی تعلقات کا اہم حصہ ہے۔ حالیہ منظوری اسی مسلسل دفاعی تعاون کی ایک نئی کڑی ہے۔

دریں اثنا امریکا نے عمان اور عراق کے لیے بھی دو مزید دفاعی معاہدوں کی منظوری دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق عمان کو F-16 لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال اور معاونت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے 188 ملین ڈالر مالیت کے ممکنہ معاہدے کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد عمان کے موجودہ F-16 بیڑے کی آپریشنل تیاری برقرار رکھنا ہے۔

عراق کے لیے بھی 150 ملین ڈالر مالیت کے Bell 412EPX ہیلی کاپٹرز کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔ سعودی عرب، عمان اور عراق سے متعلق یہ تازہ دفاعی منظوریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں جدید ہتھیاروں، فوجی انجنوں، طیاروں کی معاونت اور ہیلی کاپٹرز سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین