2027 میں بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت

بھارت 2027 میں جاپان کو پیچھے چھوڑ کر چوتھی بڑی معیشت بننے کے لیے تیار

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پیش گوئی کے مطابق بھارت 2027 میں جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ یہ پیش گوئی دونوں ایشیائی ممالک کی معاشی صورتحال میں فرق کو ظاہر کرتی ہے، جہاں بھارت کی ترقی کی رفتار مضبوط ہے جبکہ جاپان کو کئی طویل مدتی مسائل کا سامنا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق 2027 میں بھارت کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 4.52 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس دوران جاپان چوتھے سے چھٹے نمبر پر آ سکتا ہے اور برطانیہ بھی اس سے آگے نکل سکتا ہے۔ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت برقرار رہنے کی توقع ہے، جبکہ چین دوسرے اور جرمنی تیسرے نمبر پر ہوگا۔

عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت کی معیشت نے حالیہ برسوں میں مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔ آئی ایم ایف نے 2026 میں بھارت کی معاشی ترقی کی پیش گوئی بڑھا کر 7 فیصد کر دی ہے۔ یہ اندازہ ملک کی ترقی کی رفتار اور بیرونی معاشی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ایشیا ڈائریکٹر کرشنا سرینواسن نے کہا کہ بھارت موجودہ توانائی بحران میں مضبوط معاشی بنیادوں کے ساتھ داخل ہوا۔ ان کے مطابق ملک کی اچھی شرح نمو، محتاط مالیاتی پالیسی اور زرمبادلہ کے بڑے ذخائر نے اسے توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دی۔ یہ بحران ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ سے بھی متاثر ہوا ہے۔

دوسری جانب جاپان کو عمر رسیدہ آبادی اور دیگر بنیادی مسائل کے باعث سست معاشی ترقی کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف نے 2026 میں جاپان کی معاشی شرح نمو صرف 0.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ توانائی کی بلند قیمتوں اور مہنگائی نے بھی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے باعث بینک آف جاپان نے شرح سود تین دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچا دی ہے۔

جاپانی ین کی قدر میں کمی نے درآمدی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں۔ موسم گرما کے دوران ڈالر کے مقابلے میں ین کی قدر 40 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔ جاپان کو مصنوعی ذہانت میں بڑھتی سرمایہ کاری سے فائدہ ہوا ہے، تاہم کرشنا سرینواسن کے مطابق یہ فائدہ بعض علاقائی معیشتوں کے مقابلے میں کم رہا ہے۔

جاپان کی معاشی صورتحال سے متعلق خدشات کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر بھی نظر آیا۔ جمعرات کو ٹوکیو کا اہم نکیئی انڈیکس تقریباً 5 فیصد گر گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے منافع پر خدشات لاحق ہوئے۔ آئی ایم ایف کی پیش گوئی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت بڑی عالمی معیشتوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے، جبکہ جاپان کو معاشی سست روی اور آبادی سے متعلق مسائل کا سامنا رہے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین