امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں امریکی وفد سفارتی کوششوں کے لیے پاکستان پہنچ رہا ہے، لیکن ایران نے براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وابستہ نمائندے، جن میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکی حکام سے براہ راست ملاقات نہیں کرے گا بلکہ اپنے مؤقف کو پاکستان کے ذریعے پہنچائے گا۔
امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس صورتحال کا اہم نتیجہ ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتکاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے اور ایران کو اپنے مؤقف میں نرمی دکھانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر جوہری معاملے پر۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد اس بحران کو کم کرنے کی کوشش ہیں، لیکن فوری پیش رفت کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔