یورپی یونین نے میٹا کے زیرِ انتظام فیس بک اور انسٹاگرام پر بچوں کی حفاظت کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یورپی ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں پلیٹ فارمز 13 سال سے کم عمر بچوں کو اپنی سروسز تک رسائی سے مؤثر طریقے سے نہیں روک سکے۔ یہ تحقیقات دو سال تک جاری رہیں۔
یہ معاملہ فیس بک انسٹاگرام یورپی یونین الزامات کے تحت سامنے آیا ہے، جس میں کمپنیوں کو اپنی عالمی آمدن کا 6 فیصد تک جرمانہ ہو سکتا ہے اگر خلاف ورزی ثابت ہو جائے۔
یورپی حکام کے مطابق یورپ میں تقریباً 10 سے 12 فیصد بچے 13 سال سے کم عمر ہونے کے باوجود فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کر رہے ہیں، جو موجودہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی کمشنر ہینا ورکنن نے کہا کہ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں پلیٹ فارمز بچوں کی عمر کی جانچ اور اکاؤنٹس کی بندش کے حوالے سے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔
فیس بک انسٹاگرام یورپی یونین الزامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کو اپنے سسٹمز بہتر بنانے ہوں گے تاکہ کم عمر صارفین کو فوری طور پر شناخت اور حذف کیا جا سکے۔
میٹا نے ان الزامات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی بچوں کے اکاؤنٹس کی شناخت اور حذف کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور مزید حفاظتی اقدامات بھی جلد متعارف کرائے گا۔
یورپی کمیشن نے میٹا کو جواب دینے کا موقع دیا ہے، اور اگر اطمینان نہ ہوا تو مستقبل میں مزید جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔