ایران نے تصدیق کی ہے کہ ایران امریکہ جوہری معاملہ حالیہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے دوران مختصر طور پر زیر بحث آیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی وفد نے تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا، تاہم اس گفتگو کو باضابطہ مذاکرات کا آغاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ملاقات کے دوران امریکی وفد نے جوہری پروگرام کا موضوع اٹھایا۔ ان کے مطابق اس پر مختصر تبادلہ خیال ہوا جس میں دونوں فریقوں نے اپنے عمومی مؤقف بیان کیے، لیکن کسی تفصیلی معاملے پر بات نہیں ہوئی۔
عالمی برادری طویل عرصے سے ایران امریکہ جوہری معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کئی برسوں سے بین الاقوامی سفارت کاری کا اہم موضوع رہے ہیں۔ ایسے میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی سطح کی بات چیت کو اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات کو نئے جوہری مذاکرات کا آغاز نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق نہ کوئی تفصیلی تجاویز زیر بحث آئیں اور نہ ہی آئندہ مذاکرات کے لیے کوئی فریم ورک طے کیا گیا۔ ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ گفتگو انتہائی محدود نوعیت کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود سفارتی رابطے بھی اختلافات رکھنے والے ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس ملاقات سے کوئی فوری پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم اس نے یہ ظاہر کیا کہ دونوں فریق حساس معاملات پر بات چیت کے لیے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران امریکہ جوہری معاملہ اب بھی عالمی سیاست کا اہم موضوع ہے۔
سوئٹزرلینڈ ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں کے لیے اہم مقام رہا ہے۔ غیر جانبدار ماحول دونوں ممالک کے حکام کو باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسی ملاقاتیں اکثر مؤقف واضح کرنے اور غلط فہمیوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
فی الحال ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی باضابطہ مذاکرات جاری نہیں ہیں۔ تاہم اس مختصر گفتگو نے ایک بار پھر ایران امریکہ جوہری معاملہ کے مستقبل پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ مبصرین آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں گے۔