آبنائے ہرمز ٹولز کے ذریعے ایران نے پہلی بار آمدن حاصل کر لی ہے، جس کی تصدیق ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کی ہے۔ یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حمیدرضا حاجی بابائی کے مطابق آبنائے ہرمز ٹولز سے حاصل ہونے والی پہلی رقم مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔ اس کی تفصیلات ایرانی میڈیا نے رپورٹ کی ہیں۔
یہ ٹولز ایران نے اسٹریٹجک سمندری راستے پر عائد کیے ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران سامنے آنے والا ایک اہم فیصلہ ہے۔ یہ راستہ عالمی توانائی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کا ایک نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس دنیا بھر کو سپلائی کی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی تبدیلی کا اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔
ایرانی حکام نے ابھی تک ٹول سسٹم سے حاصل ہونے والی مکمل آمدن کی تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں، تاہم سرکاری میڈیا کے مطابق رقم کو باضابطہ طور پر مرکزی بینک میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ ساتھ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے بعض بحری جہازوں کو روکنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز ٹولز نہ صرف خطے کی سیاست پر اثر ڈال سکتے ہیں بلکہ عالمی توانائی سپلائی چین کے لیے بھی اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔