ایران نیٹو بیان

نیٹو چیف کے بیان پر ایران کا سخت ردعمل

ایران نیٹو بیان کے معاملے پر نئی سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، جہاں تہران نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے نیٹو پر جنگ میں شمولیت کا الزام عائد کیا ہے۔

ایرانی حکام نے کہا کہ نیٹو کی جانب سے امریکی کارروائیوں کی حمایت کا اعتراف دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اتحاد نے ایران کے خلاف جنگ میں عملی کردار ادا کیا۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب مارک روٹے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کا جواب دیا۔

روٹے نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ متعدد نیٹو اتحادیوں نے امریکہ کو سہولیات فراہم کیں اور کئی ممالک نے اپنی فوجی تنصیبات امریکی کارروائیوں کے لیے دستیاب رکھیں۔ ان کے مطابق اتحادی ممالک نے مختلف سطحوں پر تعاون کیا۔

انہوں نے خاص طور پر اٹلی میں موجود امریکی اڈوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں امریکی طیاروں نے وہاں سے پروازیں کیں۔ ان کے بقول یہ تعاون اس بات کی علامت ہے کہ نیٹو ممالک نے امریکی کوششوں کا ساتھ دیا۔

ایران نیٹو بیان کے تناظر میں تہران نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ بات ثابت کرتی ہے کہ بعض مغربی ممالک تنازع میں غیر جانبدار نہیں رہے۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات بھی حالیہ عرصے میں تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ کئی یورپی ممالک نے فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ تازہ بیانات ایران، امریکہ اور نیٹو کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ مستقبل کے مذاکرات اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر ان بیانات کے اثرات گہری نظر سے دیکھے جا رہے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین