ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکا کسی بھی ملک کو اپنی پالیسیاں مسلط نہیں کر سکتا، جس سے ایران امریکا آبنائے ہرمز کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اہم سمندری راستے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔
ایران کی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلاعی نیک نے کہا کہ دنیا میں اب ایک نیا نظام ابھر رہا ہے جس میں آزاد ممالک اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران امریکا آبنائے ہرمز کشیدگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، تنازع کے آغاز سے ہی مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔ اس راستے کی صورتحال نے عالمی تیل اور گیس کی منڈیوں پر بھی نمایاں اثر ڈالا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکا تہران کی ایک نئی تجویز پر غور کر رہا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم فریقین کے درمیان طویل المدتی معاہدے پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حل میں اس کی خودمختاری اور آزاد فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق بیرونی دباؤ ان کی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کر سکتا، جس سے ایران امریکا آبنائے ہرمز کشیدگی مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد وقتی طور پر لڑائی رک گئی ہے، تاہم مستقل امن کے لیے مذاکرات ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے۔
ایران نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی اتحادوں میں مشترکہ دفاعی صلاحیتیں شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔