ایران نے کہا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کا اس کی خوراک کی فراہمی پر محدود اثر پڑا ہے، اور ملک میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی برقرار ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے۔
ایران کے وزیر زراعت کے مطابق ایران امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود بنیادی اشیاء کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی جغرافیائی وسعت مختلف سرحدوں کے ذریعے درآمدات کو ممکن بناتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 85 فیصد زرعی پیداوار اور بنیادی اشیاء ملک کے اندر ہی تیار کی جاتی ہیں۔ یہی خود کفالت ایران کی غذائی سلامتی کو مضبوط بناتی ہے۔
ایران امریکی بحری ناکہ بندی 13 اپریل کو اس وقت نافذ کی گئی جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا۔ اس اقدام نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی ہے۔
ایرانی حکام نے اس ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس کے باوجود ایران زمینی راستوں اور علاقائی تجارت کے ذریعے اپنی درآمدات جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان متبادل ذرائع نے اثرات کو کم کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ فوری طور پر ایران امریکی بحری ناکہ بندی کا اثر کم دکھائی دیتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے معاشی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ صورتحال پر عالمی نظر برقرار ہے۔