ایران نے حالیہ اسلام آباد مفاہمت کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور مؤثر مذاکراتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس پیش رفت نے خطے میں امن کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔
آذربائیجان میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی دباؤ یا جبر کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت اور قوت ارادی کی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمت نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے مذاکرات کے دوران اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا اور اپنی اہم ترجیحات پر مؤثر انداز میں مؤقف پیش کیا۔
محمد باقر قالیباف نے اس معاہدے کو “امریکا کی شکست کا اعلان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو بالآخر سفارتی راستہ اختیار کرنا پڑا۔ ان کے اس بیان کو ایران کی سرکاری تشریح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور سلامتی کی ذمہ داری خطے کے ممالک پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق بیرونی مداخلت کے بجائے علاقائی تعاون اور مکالمہ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد مفاہمت نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ اس کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک طے کیا گیا ہے۔ اس عمل سے اقتصادی اور سکیورٹی معاملات پر مزید بات چیت کی راہ بھی کھلی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مختلف ممالک اس معاہدے کی مختلف انداز میں تشریح کر رہے ہیں، تاہم یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ اسلام آباد مفاہمت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین طے شدہ نکات پر کس حد تک عملدرآمد کرتے ہیں اور مذاکراتی عمل کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں۔