ایران یورینیم افزودگی معطلی عالمی جوہری سفارتکاری میں ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ بن چکی ہے، جس پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں کوئی حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔
ایران یورینیم افزودگی معطلی سے مراد ایران کے جوہری افزودگی کے عمل کو عارضی طور پر روکنے کا امکان ہے، جو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے اہم بیان دیا ہے۔
رافائل گروسی نے سیول میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ماہرین صرف نگرانی اور معائنے کا کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن اس معطلی کی مدت کا فیصلہ سیاسی رہنما کرتے ہیں۔ اس سے ایران یورینیم افزودگی معطلی کی نوعیت مزید واضح ہو گئی ہے۔
حالیہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے بڑا اختلاف اسی بات پر ہے کہ یہ معطلی کتنی مدت تک ہونی چاہیے۔ اسی اختلاف کی وجہ سے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ معطلی طویل مدت کے لیے ہونی چاہیے تاکہ عالمی تحفظ یقینی بنایا جا سکے، جبکہ ایران نسبتاً مختصر مدت چاہتا ہے۔ یہی اختلاف ایران یورینیم افزودگی معطلی کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
رافائل گروسی نے مزید کہا کہ ان کے ادارے کا کام صرف معائنے اور تصدیق تک محدود ہے، جبکہ اصل فیصلے سیاسی سطح پر ہوتے ہیں۔ اس بیان نے مذاکراتی صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے۔
یہ معاملہ عالمی سلامتی، جوہری شفافیت اور خطے کے استحکام سے براہ راست جڑا ہوا ہے، اسی لیے ایران یورینیم افزودگی معطلی پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔