ایران امریکہ بحری جہاز تنازع اقوام متحدہ شکایت

ایران کا امریکی بحری کارروائی پر اقوام متحدہ سے احتجاج

ایران امریکہ بحری جہاز تنازع اقوام متحدہ شکایت اس وقت سامنے آئی جب تہران نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے بحیرہ عمان میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو غیر قانونی طور پر قبضے میں لیا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر جمال فارس الروایعی کو ایک خط کے ذریعے پیش کیا۔

ایران کے مطابق یہ واقعہ “ٹوسکا” نامی جہاز کے ساتھ پیش آیا، جسے 19 اپریل کو امریکی افواج نے نشانہ بنایا۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے عملے کی جان کو خطرہ لاحق ہوا۔

ایران امریکہ بحری جہاز تنازع اقوام متحدہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اسے جارحیت کے زمرے میں شمار کیا جانا چاہیے۔

تہران نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کے اہم بحری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی مذمت کرے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائے، ساتھ ہی جہاز اور عملے کی فوری رہائی کا حکم دیا جائے۔

یہ ایران امریکہ بحری جہاز تنازع اقوام متحدہ شکایت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جس سے عالمی امن اور بحری تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے