پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے عمران خان کا علاج سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کو آنکھ کے مرض کے علاج کے لیے پانچویں مرتبہ پمز اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم خاندان کو اس بارے میں بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔
منگل کے روز جاری بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ انہیں عمران خان کی تازہ اسپتال منتقلی کے بارے میں سرکاری ذرائع سے نہیں بلکہ عوامی اطلاعات کے ذریعے معلوم ہوا۔ انہوں نے طبی معائنے اور علاج کے طریقہ کار میں شفافیت پر سوالات اٹھائے۔
علیمہ خان کے مطابق خاندان پمز کی جانب سے جاری کردہ طبی رپورٹس پر اعتماد نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن بعد میں خود عمران خان نے ان دعوؤں سے اختلاف کیا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سابق وزیراعظم کی حالت بہتر ہو رہی تھی تو پھر پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ان کے مطابق اس سوال کا واضح جواب نہ ملنا عمران خان کا علاج سے متعلق خدشات کو مزید بڑھاتا ہے۔
علیمہ خان نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا معائنہ اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال کے آزاد اور ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ آزادانہ طبی نگرانی سے علاج کے عمل پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی ملاقاتوں کی اجازت پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق خاندان کے افراد کو باقاعدگی سے ملاقات کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ اس حوالے سے عدالتی احکامات موجود ہیں۔
دوسری جانب پمز اسپتال کے مطابق عمران خان کو آنکھ کے مرض رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کے فالو اپ علاج کے لیے لایا گیا تھا اور معائنے کے بعد ان کی حالت مستحکم قرار دی گئی۔ تاہم عمران خان کا علاج سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، جبکہ اپوزیشن آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ کر رہی ہے اور حکومت مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کے مؤقف پر قائم ہے۔