مسعود پزشکیان ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ان کا طیارہ اسلام آباد کے قریب واقع نور خان ایئربیس پر اترا، جہاں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ایرانی صدر کے استقبال کے لیے آصف علی زرداری، شہباز شریف اور اسحاق ڈار موجود تھے۔ اس اعلیٰ سطحی استقبال کو دونوں ممالک کے قریبی تعلقات اور سفارتی اہمیت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں مختلف سفارتی اور سیاسی پیش رفتیں جاری ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی صدر جس طیارے پر پاکستان آئے، اس کا نام "میناب” رکھا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ نام ایران میں ایک اسکول پر حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی یاد میں رکھا گیا، جو اس سفر کو ایک علامتی اہمیت بھی دیتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دورے کا ایک اہم مقصد امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا ہے۔ تہران نے مختلف مواقع پر اسلام آباد کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں خطے کی صورتحال، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔