مسعود پزشکیان دورہ پاکستان کے حوالے سے اسلام آباد میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر منگل کے روز ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آ سکتے ہیں۔ متوقع دورہ دونوں ممالک کے قریبی تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان پاکستان کی جانب سے حالیہ علاقائی معاملات میں تعاون اور مثبت کردار پر اظہار تشکر کے لیے یہ دورہ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم دارالحکومت میں جاری تیاریاں دورے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
متوقع مسعود پزشکیان دورہ پاکستان کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون میں خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے قومی پرچم اہم شاہراہوں اور سرکاری مقامات پر آویزاں کر دیے گئے ہیں جبکہ مختلف عمارتوں کی سجاوٹ کا کام بھی جاری ہے۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا عملہ ریڈ زون کو مزید خوبصورت بنانے میں مصروف ہے۔ سڑکوں، گرین بیلٹس اور سرکاری عمارتوں کے اطراف صفائی اور آرائش کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا جا سکے۔
دوسری جانب دورے کے پیش نظر سکیورٹی اداروں نے بھی حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ اہم تنصیبات اور حساس مقامات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ ریڈ زون میں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
متوقع مسعود پزشکیان دورہ پاکستان ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور ایران تجارت، سرحدی تعاون، علاقائی استحکام اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت متعدد مواقع پر باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نئی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔ اسلام آباد میں جاری تیاریوں کے دوران سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مسعود پزشکیان دورہ پاکستان کی باضابطہ تصدیق کب سامنے آتی ہے اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو کیا نئی سمت ملتی ہے۔