اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس

اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم میں قومی کرنسیوں کے فروغ کی تجویز

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی لین دین کیلئے قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دیں۔ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں تنظیم کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کیلئے مالیاتی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں مالی استحکام، علاقائی تجارت اور معاشی تعاون ان کی گفتگو کے اہم موضوعات رہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان لین دین کیلئے قومی کرنسیوں کے استعمال کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایس سی او ترقیاتی بینک اور ترقیاتی و سرمایہ کاری فنڈز قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔ ان کے مطابق ایسے مالیاتی ادارے خطے میں ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کر سکتے ہیں اور رکن ممالک کو عالمی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ایس سی او کے رکن ممالک کیلئے اقتصادی تعاون بڑھانے کا اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط میں اضافے سے ممالک کے درمیان معاشی انضمام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اسحاق ڈار نے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بھی ضروری قرار دیا۔

اسحاق ڈار نے گزشتہ 25 برس کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے باہمی اعتماد اور تنوع کے احترام کے اصولوں کے تحت اپنے تعاون کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ ان کے مطابق تجارت، بنیادی ڈھانچے، ثقافت اور جدت جیسے شعبے بھی تنظیم کی ترجیحات میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایس سی او کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے اور غربت میں کمی سے متعلق ورکنگ گروپ میں پاکستان کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان غربت میں کمی کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے کردار کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، جدت، توانائی میں تعاون اور بین الاقوامی معلوماتی سیکیورٹی مستقبل میں ایس سی او تعاون کے اہم شعبے بن سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او سربراہانِ مملکت کے اجلاس کیلئے طے کردہ ترجیحات کا بھی ذکر کیا۔ ان میں امن و سلامتی، علاقائی روابط، تجارت، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت، پائیدار توانائی اور عوامی سطح پر رابطوں کا فروغ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی علاقائی اقتصادی انضمام کیلئے ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔

دورے کے دوران اسحاق ڈار نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اور وزیراعظم قاہر رسول زادہ سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے چینی وزیراعظم لی چیانگ اور منگولیا کے پہلے نائب وزیراعظم جادمبین انخبایار سے بھی ملاقات کی۔ پاکستان نے ستمبر میں ایس سی او کی صدارت سنبھالی تھی اور اب 2027 میں سربراہانِ مملکت کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس سے قبل پاکستان اکتوبر 2024 میں تنظیم کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس کی میزبانی کر چکا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین