اسرائیل صلیب بے حرمتی لبنان

جنوبی لبنان میں صلیب کی بے حرمتی، اسرائیل کی مذمت

اسرائیل کی اعلیٰ قیادت نے جنوبی لبنان کے ایک عیسائی گاؤں میں ایک فوجی کی جانب سے صلیب کی بے حرمتی کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ معاملہ اسرائیل صلیب بے حرمتی لبنان کے نام سے عالمی سطح پر زیر بحث آ گیا ہے۔

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اس واقعے پر “حیران اور افسردہ” ہیں اور یہ عمل برداشت اور انسانی اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے واضح طور پر اس اسرائیل صلیب بے حرمتی لبنان واقعے کی مذمت کی۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے بھی فوجی کے عمل کو شرمناک اور ناقابل قبول قرار دیا اور متاثرہ مسیحی برادری سے معذرت کی۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اسرائیل صلیب بے حرمتی لبنان کے تناظر میں انتہائی افسوسناک ہے۔

رپورٹس کے مطابق فوجی نے جنوبی لبنان کے گاؤں دبیل میں ایک چھوٹے سے مقدس مقام پر موجود صلیب کو کلہاڑی سے نقصان پہنچایا۔ اس واقعے نے اسرائیل صلیب بے حرمتی لبنان کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

مقامی پادری نے اس عمل کو مذہبی جذبات کی سنگین توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدس علامات کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے۔ یہ اسرائیل صلیب بے حرمتی لبنان تنازع مزید حساس ہو گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور فوجی کا عمل ادارے کی اقدار کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی صلیب کی بحالی میں مدد کی جا رہی ہے، جو اسرائیل صلیب بے حرمتی لبنان کے بعد اہم اقدام ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل صلیب بے حرمتی لبنان صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے