کے ٹو کارگو طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول اور طیارے کے پائلٹ کے درمیان ہونے والی آخری گفتگو کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں۔ 7 جولائی 2026 کو بحیرہ عرب میں پیش آنے والے اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ اداروں کی تحقیقات جاری ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق K2 Airways کی پرواز KTA-1732 سے کراچی کی فضائی حدود میں رابطہ منقطع ہوگیا، جس کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی رسپانس پلان فعال کر دیا گیا۔ حکام نے واقعے کے بعد سرچ اور تحقیقاتی کارروائیاں شروع کر دیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
ریکارڈ کے مطابق 16:17 UTC پر طیارے کے کپتان نے کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی کہ طیارے کے نیویگیشن سسٹم میں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے محفوظ پرواز جاری رکھنے کے لیے ریڈار ویکٹرنگ کی درخواست کی تاکہ ائیر ٹریفک کنٹرول انہیں متبادل رہنمائی فراہم کر سکے۔
اسی گفتگو کے دوران کپتان نے یہ بھی بتایا کہ طیارہ رول کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ غیر معمولی پرواز کی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ اس پیغام کے کچھ ہی دیر بعد طیارے سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا، اور بعد ازاں اس کے بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی۔
حادثے کا شکار ہونے والے کارگو طیارے میں پانچ افراد سوار تھے، جن میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق، انجینئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل تھے۔ حکام کے مطابق تمام عملے کا تعلق کراچی سے تھا۔
تحقیقاتی ادارے اس وقت پرواز کے ریکارڈ، ائیر ٹریفک کنٹرول سے ہونے والی گفتگو، طیارے کی تکنیکی حالت اور دیگر شواہد کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ تاحال حادثے کی حتمی وجہ سے متعلق کوئی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی، جبکہ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مستند معلومات پر اعتماد کریں۔