لبنان اسرائیل مذاکرات کا ایک نیا دور منگل کو واشنگٹن میں شروع ہو رہا ہے، جبکہ خطے کی سفارتی صورتحال امریکہ اور ایران کے حالیہ معاہدے کے اثرات کے تحت تبدیل ہو رہی ہے۔ اس سے قبل بھی اپریل سے اب تک کئی دور کی کوششیں کسی مستقل جنگ بندی میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
لبنانی حکام کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات ہی جاری تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ ہیں۔ تاہم اب تک ہونے والے لبنان اسرائیل مذاکرات کسی پائیدار نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ سامنے آیا جس کے اثرات لبنان سمیت خطے کے دیگر تنازعات پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے سفارتی توازن کو متاثر کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لبنان اسرائیل مذاکرات اس وقت لبنان کے لیے کمزور سفارتی پوزیشن میں ہو رہے ہیں کیونکہ ایران امریکہ معاہدے نے اس کی مذاکراتی طاقت کو محدود کر دیا ہے۔
لبنان کی کوشش ہے کہ اسرائیل سے جنوبی علاقوں سے فوجی انخلا کا واضح شیڈول حاصل کیا جائے، تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک سکیورٹی خدشات اور حزب اللہ کے حوالے سے مطالبات پورے نہیں ہوتے، فوجی موجودگی برقرار رہ سکتی ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور دیرپا امن قائم کرنا ہے، جبکہ لبنان اندرونی تنازع سے بچنے کے لیے محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان گہرا عدم اعتماد اور متضاد مطالبات اب بھی کسی بڑے بریک تھرو کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔