فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے یورپ پر زور دیا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کو سمجھتے ہوئے “جاگے” اور اپنی خودمختار حکمت عملی اپنائے۔
ایتھنز میں یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک منفرد جغرافیائی سیاسی دور سے گزر رہی ہے جس میں بڑی طاقتیں یورپ کے مفادات کے خلاف متحد نظر آ رہی ہیں۔
میکرون یورپ اسٹریٹجک خودمختاری کے مؤقف کے مطابق انہوں نے کہا کہ یورپ کو اب زیادہ خود اعتمادی کے ساتھ اپنی پالیسی خود بنانی چاہیے اور بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کم کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کوئی وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی رجحان بن سکتا ہے، اس لیے یورپ کو اپنی دفاعی حکمت عملی مضبوط کرنا ہوگی۔
یہ بحث اس وقت مزید اہم ہو گئی ہے جب امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر تنقید کے بعد یورپی ممالک میں دفاعی خودمختاری پر غور بڑھ گیا ہے۔
یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ جرمنی نے بھی اپنی نئی دفاعی حکمت عملی میں روس کو بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
میکرون کے بیانات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ یورپ اب اپنی سلامتی کے لیے زیادہ خود انحصاری اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے۔