ایران امریکہ جوہری پیش رفت کے امکانات بڑھ گئے ہیں کیونکہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری پروگرام پر مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
ایران امریکہ جوہری پیش رفت کی امید اس وقت بڑھی جب پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ایران پہنچا۔ اس وفد کی قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں، جو مبینہ طور پر ایک اہم سفارتی پیغام لے کر گئے ہیں۔
پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ ان کی ثالثی ایران امریکہ جوہری پیش رفت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر یورینیم افزودگی کی مدت اور ذخیرے جیسے اہم معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے، جو مذاکرات میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ مختلف تجاویز زیر غور ہیں جن میں اسے بیرون ملک منتقل کرنا یا اس کی افزودگی کم کرنا شامل ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں فریق افزودگی روکنے کی مدت پر متفق نہیں ہیں۔ ایک جانب کم مدت کی تجویز ہے جبکہ دوسری جانب طویل پابندی پر زور دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار خطے میں اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بطور ثالث، اسلام آباد کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
مجموعی طور پر ایران امریکہ جوہری پیش رفت عالمی سطح پر ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ کامیاب مذاکرات سے خطے میں استحکام اور تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔