امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کی ملکیت کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا اور اس اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا خطے میں ایسا پائیدار اور حقیقی امن چاہتا ہے جو نہ صرف علاقائی استحکام کو فروغ دے بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی اور خوش حالی کو بھی یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کوئی بھی فیصلہ یا معاہدہ اس کے اتحادی ممالک کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں شراکت دار ممالک کے تحفظات اور مفادات کو مکمل اہمیت دی جائے گی۔
مارکو روبیو نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزرلینڈ جائیں گی۔ ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتی رابطے اور مذاکرات ہی مسائل کے پائیدار حل کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری بات چیت مثبت نتائج کی جانب پیش رفت میں مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک کامیاب معاہدہ چاہتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کی جائے گی۔ تاہم امریکا اپنے بنیادی مفادات اور اتحادیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔