ML-1 ریلوے منصوبہ

ایم ایل ون ریلوے منصوبہ سی پیک سے خارج، فنڈنگ کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے رجوع

حکومت نے کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن پر مشتمل ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی فنڈنگ کے حوالے سے نئی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ اب چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے فریم ورک کا حصہ نہیں رہا اور اس کے لیے متبادل مالی وسائل تلاش کیے جا رہے ہیں۔

چین کے ساتھ مالی معاملات طے نہ ہو سکے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اقتصادی امور نے بتایا کہ چین کے ساتھ منصوبے کی مالی معاونت سے متعلق مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ اسی وجہ سے حکومت نے منصوبے کی تکمیل کے لیے دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے تعاون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پہلے مرحلے میں کراچی سے روہڑی ریلوے لائن اپ گریڈ ہوگی

بریفنگ کے مطابق تقریباً 7.5 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں کراچی سے روہڑی تک مین ریلوے لائن کو جدید بنایا جائے گا۔ اس مرحلے کا مقصد ریلوے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ کرنا اور سفری سہولیات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

اے ڈی بی اور دیگر مالیاتی اداروں سے تعاون

سیکرٹری اقتصادی امور نے بتایا کہ منصوبے کی فنڈنگ کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے بات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) اور اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) کو بھی سرمایہ کاری کے عمل میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ منصوبے کے لیے درکار مالی وسائل بروقت دستیاب ہو سکیں۔

ریلوے نظام کی بہتری کے لیے اہم منصوبہ

ایم ایل ون منصوبہ پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی جدیدکاری کے اہم منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی تکمیل سے مال برداری اور مسافر ٹرینوں کی کارکردگی بہتر ہونے کے ساتھ ملکی معیشت، تجارت اور نقل و حمل کے شعبے کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین