بھارت اور جاپان نے جمعرات کو بھارت جاپان معاہدے کے تحت مصنوعی ذہانت، توانائی، دھاتوں، دفاع اور اقتصادی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ معاہدے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے درمیان نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات کے بعد طے پائے۔
ملاقات کے بعد سانائے تاکائیچی نے کہا کہ جاپان اور بھارت اپنی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
نئے بھارت جاپان معاہدے کے تحت مصنوعی ذہانت، توانائی کے تحفظ، اقتصادی سلامتی اور جدید ٹیکنالوجی میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور عوامی روابط سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ جاپان کی جدید ٹیکنالوجی اور بھارت کی سافٹ ویئر مہارت کا امتزاج عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی ترقی کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔ دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں اپنے پہلے مشترکہ ترقیاتی منصوبے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے، جسے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اقتصادی تعلقات بھی مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ بھارتی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 27.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اپریل سے دسمبر 2025 کے دوران جاپان کی جانب سے بھارت میں 3.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔
جاپان بھارت کے سب سے بڑے سرمایہ کار ممالک میں شامل ہے اور ممبئی۔احمد آباد تیز رفتار ریل منصوبے سمیت کئی بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جاپانی کمپنیوں نے بھارتی مالیاتی اور صنعتی شعبوں میں بھی اپنی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
تازہ بھارت جاپان معاہدے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کواڈ اتحاد کے رکن ہونے کے باعث مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون میں مزید وسعت متوقع ہے۔