مجتبیٰ خامنہ ای لبنان

لبنان کی صورتحال جھوٹی امیدوں کا پردہ چاک کرتی ہے، خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بڑی طاقتوں پر انحصار کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 30 ستمبر کو ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات نے ان لوگوں کے لیے ذلت اور بالآخر رسوائی پیدا کی ہے جو بڑی طاقتوں کے مبینہ جھوٹے وعدوں پر امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان کو لبنان میں جاری کشیدگی اور خطے کی مجموعی صورتحال سے جوڑا۔ ان کے مطابق بیرونی طاقتوں پر انحصار کے نتائج موجودہ حالات میں واضح ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان کا معاملہ وسیع تر علاقائی تنازع سے جڑا ہوا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں اسرائیل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے ’’صہیونی دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے پہلے ہی موڑ پر اسے تیزی سے دفن اور فراموش کر دیا جائے گا۔ یہ بیان ایران کے اسرائیل مخالف مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای اس سے قبل بھی لبنان اور حزب اللہ کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں۔ جولائی میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی معاہدے میں لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے تازہ بیان سے چند روز قبل بھی انہوں نے خطے کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ 28 ستمبر کو انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے دشمنوں کو شدید ضربیں لگی ہیں اور وہ اب بحیرہ عرب سے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرتے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں لبنان سمیت خطے کے مختلف معاملات زیر بحث ہیں۔ حالیہ مذاکرات میں لبنان، آبنائے ہرمز، امریکی پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شرائط بھی شامل رہی ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا تازہ بیان لبنان کو ایران کے وسیع تر علاقائی اور خارجہ پالیسی مؤقف سے جوڑتا ہے۔ ان کے تبصرے ایران کا سرکاری مؤقف ظاہر کرتے ہیں، جبکہ لبنان کی صورتحال اور سفارتی کوششیں خطے میں جاری کشیدگی کی سمت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین