امریکا نے سعودی عرب اور قطر میں اہم توانائی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مزید دو پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں تعینات کر دی ہیں۔ یہ اقدام ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کی تیاریوں کے دوران سامنے آیا ہے۔
Axios کے مطابق ایک پیٹریاٹ بیٹری گزشتہ ماہ سعودی عرب بھیجی گئی تھی۔ اسے ملک میں ایک اہم تیل تنصیب کے تحفظ کے لیے تعینات کیا گیا۔ دوسری بیٹری قطر بھیجی گئی، جہاں اسے قدرتی گیس کی تنصیب کے دفاع کے لیے رکھا گیا ہے۔
امریکی پیٹریاٹ بیٹریاں دونوں خلیجی ممالک کو توانائی کے اہم ڈھانچے کے تحفظ کی یقین دہانی کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ خطے میں ایران کے حوالے سے کشیدگی برقرار رہنے کے باعث واشنگٹن اپنی دفاعی موجودگی بڑھا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا مزید اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے رہنماؤں نے اگست میں ٹرمپ سے ایران پر بڑے حملے سے گریز کی درخواست کی تھی۔ انہیں خدشہ تھا کہ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے کے جواب میں ان کے تیل اور گیس مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی نئی امریکی فوجی کارروائی کے لیے سعودی فضائی حدود اہم ہو سکتی ہیں۔ تاہم ریاض اپنی توانائی تنصیبات کے تحفظ کی ضمانت کے بغیر اس معاملے پر رضامندی دینے سے گریز کر سکتا ہے۔
ادھر امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھا رہا ہے۔ اضافی جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور فوجی خطے کی جانب بھیجے جا رہے ہیں، جبکہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اور میکن آئی لینڈ گروپ بھی خطے کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔