امریکی خلائی ادارے ناسا کے پرسیورنس روور نے زمین کے علاوہ کسی دوسرے سیارے کی سطح پر سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ناسا کے مطابق یہ چھ پہیوں والی خودکار گاڑی 2021 میں مریخ پر پہنچنے کے بعد اب تک 28.1 میل یعنی 45.2 کلومیٹر سفر کر چکی ہے۔
گاڑی کے حجم کے اس روور نے اپنے مشن کے تقریباً ساڑھے پانچ سال بعد یہ سنگ میل عبور کیا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا مریخ پر ماضی میں ایسے حالات موجود تھے جو خردبینی زندگی کے لیے سازگار ہو سکتے تھے۔ روور نظام شمسی کے قدیم ترین ارضیاتی علاقوں میں سے بعض کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
پرسیورنس نے ناسا کے سابقہ روور آپرچیونٹی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، جس نے 2004 سے 2018 کے درمیان مریخ پر تقریباً 28.06 میل یعنی 45 کلومیٹر سفر کیا تھا۔ دونوں روورز نے چاند پر چلنے والی گاڑیوں کے سفری فاصلے کے ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیے ہیں۔ ناسا حکام کے مطابق پرسیورنس کے اہم تکنیکی نظام اب بھی بہترین حالت میں ہیں۔
روور مریخ کے شمالی نصف حصے میں واقع جیزیرو گڑھے پر تحقیق کر رہا ہے۔ سائنس دانوں کے خیال میں اس علاقے میں اربوں سال پہلے ایک جھیل موجود تھی، جسے قدیم دریائی راستوں سے پانی ملتا تھا۔ پرسیورنس نے تازہ ریکارڈ اس وقت قائم کیا جب وہ گڑھے کے مغربی کنارے کے قریب لیک دے شارم نامی علاقے سے گزرتے ہوئے ایدوبی کی جانب بڑھ رہا تھا۔
ناسا نے روور کے طویل سفر میں خودکار نیویگیشن نظام آٹو نیو کو اہم قرار دیا ہے۔ مشن مینیجر اسٹیون لی کے مطابق روور کی تقریباً 90 فیصد ڈرائیونگ انسانی مداخلت کے بغیر ہوتی ہے۔ یہ نظام سامنے کے علاقے کی تصاویر لے کر تین جہتی نقشہ بناتا ہے اور سفر کے لیے نسبتاً محفوظ راستہ منتخب کرتا ہے۔
پرسیورنس کی اہم سائنسی کامیابیوں میں ممکنہ حیاتیاتی علامت کی دریافت بھی شامل ہے، جس کا اعلان 2025 میں کیا گیا تھا۔ یہ ممکنہ علامت سرخی مائل چٹان میں دیکھی گئی، جس کی عمر تقریباً 3.2 سے 3.8 ارب سال بتائی جاتی ہے۔ تاہم، اس دریافت سے ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ مریخ پر کبھی زندگی موجود تھی۔
ناسا نے پرسیورنس کے مشن میں توسیع کرتے ہوئے اسے تقریباً 2028 کے اختتام تک جیزیرو گڑھے کے کنارے کی تحقیق جاری رکھنے کی منظوری دی ہے۔ روور کے نظام کو مزید طویل سفر کے لیے بھی آزمایا جا رہا ہے، جس میں 100 کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ ناسا کے مطابق اس کا توانائی کا نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور اس میں کئی سال کی توانائی باقی ہے۔