مغربی کنارے میں فلسطینی نوجوان جاں بحق ہوگئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 19 اور 16 سالہ نوجوان مارے گئے۔ واقعہ رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں المغير میں پیش آیا۔
فلسطینی وزارت صحت نے جاں بحق نوجوانوں کی شناخت 19 سالہ عمر محمد ناجی النعسان اور 16 سالہ خلیل راسم خلیل شہادہ کے نام سے کی۔ دونوں کو بدھ کی رات جھڑپوں کے دوران گولیاں لگیں۔
فلسطینی ہلال احمر کے مطابق النعسان کی گردن اور شہادہ کی کمر میں گولی لگی۔ دونوں نوجوانوں کو رام اللہ کے دو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
المغير گاؤں کی کونسل کے سربراہ امین ابو علیا نے دعویٰ کیا کہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی آبادکاروں نے دو گھروں سے بھیڑیں لے جانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد مقامی افراد اور آبادکاروں میں جھڑپ ہوئی۔
ان کے مطابق اسرائیلی فوج نے گاؤں کا محاصرہ کیا اور مرکز میں داخل ہوئی۔ ابو علیا نے الزام لگایا کہ فوجیوں نے عمارتوں میں سنائپرز تعینات کیے اور آبادکاروں کے خلاف مزاحمت کرنے والے افراد پر براہ راست فائرنگ کی۔
اسرائیلی فوج نے واقعے کا مختلف مؤقف پیش کیا۔ فوج کے مطابق اس نے اسرائیلی شہریوں کی مویشیوں کی واپسی میں مدد کے لیے گاؤں کا داخلی راستہ محفوظ بنایا۔ فوج نے کہا کہ کارروائی کے دوران پرتشدد ہنگامہ ہوا اور فوجیوں پر پتھر پھینکے گئے، جس کے جواب میں اہم اشتعال انگیز عناصر پر فائرنگ کی گئی۔
مغربی کنارے میں فلسطینی نوجوان جاں بحق ہونے کا یہ واقعہ خطے میں بڑھتے تشدد کے دوران پیش آیا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی فائرنگ سے 1,100 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔