نیٹ فلکس نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران فلموں اور ٹی وی مواد پر 135 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، جو عالمی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اس کے بڑے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ نیٹ فلکس فلم اور ٹی وی سرمایہ کاری عالمی سطح پر انٹرٹینمنٹ کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے، جہاں لوگ روایتی ٹی وی اور سینما کے بجائے آن ڈیمانڈ اسٹریمنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔
نیٹ فلکس نے بتایا کہ اس کی پروڈکشن سرگرمیوں نے عالمی معیشت میں 325 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا ہے اور 4 لاکھ 25 ہزار سے زیادہ ملازمتیں پیدا کی ہیں، جو انٹرٹینمنٹ سیکٹر میں اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
لاس گیٹوس، کیلیفورنیا میں قائم یہ کمپنی دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ سروسز میں سے ایک ہے جس کے 2025 کے اختتام تک 325 ملین سے زائد سبسکرائبرز تھے۔
نیٹ فلکس فلم اور ٹی وی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ اوریجنل مواد اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر خرچ ہوا ہے۔ کمپنی نے 3,000 سے زائد اداروں سے مواد لائسنس کیا ہے جن میں پبلک براڈکاسٹرز بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب غیر انگریزی مواد دیکھنے کا رجحان بڑھ کر ایک تہائی سے زیادہ ہو چکا ہے۔ “اسکوئڈ گیم” اور “منی ہائسٹ” جیسے شوز نے عالمی مقبولیت حاصل کی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اسٹریٹجی کو “نیٹ فلکس ایفیکٹ” کہا جاتا ہے، جو عالمی معیشت، ثقافت اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔