پاکستان بحرین تجارت

پاکستان اور بحرین کا دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

پاکستان اور بحرین نے دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان بحرین تجارت کا یہ ہدف اسلام آباد میں دونوں ممالک کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے دوران مقرر کیا گیا، جو پانچ سال کے وقفے کے بعد منعقد ہوا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ بحرینی وزیر خارجہ دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے اجلاس سے قبل اسحاق ڈار کے ساتھ دوطرفہ امور پر بھی بات چیت کی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے سفارتی تعلقات کو 55 سال مکمل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط قائم ہونے کی سالگرہ 14 اکتوبر کو ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس باقاعدگی سے ہونے چاہئیں اور امید ظاہر کی کہ اگلا اجلاس ایک سال کے اندر منعقد ہوگا۔

مذاکرات میں معاشی تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے تین سال کے اندر دوطرفہ تجارت کا حجم دگنا کرکے ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے تجارتی روابط بڑھانے کے لیے دونوں جانب سے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی۔ بحرینی وزیر خارجہ نے بتایا کہ 15 سے زائد شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں تعلیم، ثقافت، میڈیا اور صحت بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاری اور ترقی کے شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

دونوں ممالک نے علاقائی سکیورٹی اور جاری بحرانوں کے دوران سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔ اسحاق ڈار نے باب المندب اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں کی سکیورٹی کو عالمی تجارت اور توانائی کے لیے ضروری قرار دیا۔ بحرینی وزیر خارجہ نے سعودی شہروں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی بھی مذمت کی۔

اجلاس کے اختتام پر پاکستان اور بحرین کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے پروٹوکول پر دستخط کیے گئے۔ اسحاق ڈار نے اجلاس کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کا اگلا اجلاس بحرین میں ہوگا۔ دونوں جانب سے عوامی سطح پر مضبوط روابط کو بھی اجاگر کیا گیا، جبکہ بحرین میں پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین