پاکستان نے اردن کے علاقے کرک گورنریٹ میں چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔ دفتر خارجہ نے ہفتے، 24 اکتوبر کو جاری بیان میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اردن کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔ اس حملے نے خطے میں سکیورٹی اور دہشت گردی کے خطرات سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں اردن کی حکومت اور عوام سے تعزیت کی گئی۔ پاکستان نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے بھی ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے عوام کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ بیان میں دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر صورت میں مذمت کی گئی۔ دفتر خارجہ نے اس مؤقف کو دہرایا کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
اردن کے سرکاری نشریاتی ادارے المملکہ کے مطابق، جمعے کو کرک کے حمود چرچ میں ایک جنازے کے جلوس کے دوران دو مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں حملہ آور ایک گاڑی سے اترے اور وہاں موجود افراد کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔
🔊PR No.3️⃣0️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Strongly Condemns the Terrorist Attack in Karak, Jordan
🔗⬇️ https://t.co/7hf0vM2CgD
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 24, 2026
فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز کو چرچ کے اطراف تعینات کردیا گیا۔ المملکہ کے مطابق، حکام ملزمان کی تلاش میں مصروف تھے اور ان کا تعاقب کیا جارہا تھا۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں حملہ آوروں کی شناخت، واقعے کے ممکنہ محرکات یا گرفتاریوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ واقعہ جنوبی اردن کے علاقے کرک گورنریٹ میں پیش آیا۔ جنازے کے جلوس کے دوران فائرنگ نے مذہبی اجتماعات اور عوامی تقریبات میں شریک افراد کی حفاظت سے متعلق خدشات پیدا کیے ہیں۔ حکام واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے اور ذمہ دار افراد تک پہنچنے کے لیے کارروائی کررہے تھے۔
پاکستان کی جانب سے حملے کی مذمت دہشت گردی کے خلاف اس کے مؤقف اور متاثرہ ممالک کے ساتھ یکجہتی کی عکاسی کرتی ہے۔ دفتر خارجہ نے اردن کے سوگوار عوام اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ اردنی حکام کی تحقیقات جاری رہنے کے ساتھ حملہ آوروں اور واقعے کے محرکات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔