پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن عمل میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سفارتکاری کی ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اس معاہدے اور بعد ازاں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات نے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتکاری پر اعتماد مزید مضبوط کیا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت 18 جون کو الیکٹرانک طور پر دستخط کی گئی تھی۔ بعد ازاں پاکستان اور قطر کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن اسٹاک میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں معاہدے پر عملدرآمد کے مختلف پہلوؤں پر پیش رفت ہوئی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی جو ثالثی عمل کی نگرانی کرے گی۔ مرکزی مذاکرات کار اس کمیٹی کو باقاعدہ رپورٹ دیں گے جبکہ مختلف ورکنگ گروپس جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل پر کام کریں گے۔
ترجمان نے کہا کہ فریقین نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ غلط فہمیوں سے بچنے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ایک رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔
🔴LIVE: Spokesperson’s Weekly Press Briefing 26-06-2026 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/8iCRIClkno
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 24, 2026
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں آئندہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کی متعلقہ ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گی تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو ملنے والی بین الاقوامی پذیرائی کو بھی سراہا۔
طاہر اندرابی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطوں کے دوران علاقائی امن، مذاکراتی عمل اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت پاکستان صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام کو امید ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری مذاکرات خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مثبت نتائج لائیں گے۔