پاکستان کا تیل بل

پاکستان کا تیل بل 800 ملین ڈالر تک پہنچ گیا

پاکستان کا تیل بل مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث نمایاں طور پر بڑھ کر 800 ملین ڈالر ہفتہ وار تک پہنچ گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس صورتحال پر روشنی ڈالی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے پاکستان کا تیل بل بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی، جس سے قیمتیں بلند ہوئیں۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود ایندھن کی فراہمی کی صورتحال اب کسی حد تک بہتر دکھائی دیتی ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ جنگ سے پہلے پاکستان کا ہفتہ وار تیل بل تقریباً 300 ملین ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 800 ملین ڈالر ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ عالمی حالات کے اثرات کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایندھن کی کھپت میں بھی کچھ کمی آئی ہے، جو کہ بڑھتی قیمتوں اور حکومتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم کے مطابق جنگ سے قبل پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن تھی، تاہم موجودہ حالات نے گزشتہ دو سال کی کوششوں کو متاثر کیا ہے اور معاشی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کا تیل بل اور عالمی قیمتوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکومت مستقبل میں مزید اقدامات کر سکتی ہے تاکہ معیشت کو بیرونی دباؤ سے بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے