پاکستان کی ثالثی کوششیں

امریکا ایران ثالثی میں پاکستان کی خاموش سفارتی کوششیں جاری

پاکستان پاکستان کی ثالثی کوششیں کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اگرچہ اس عمل میں مختلف چیلنجز اور رکاوٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطوں کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں اس ماہ کے آغاز میں جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے بعد میں توسیع بھی دی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کوششیں ’’مسلسل اور خاموش‘‘ انداز میں جاری ہیں، جن کا مقصد شہرت نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

تاہم مذاکرات میں اس وقت تعطل آیا جب ایران کی جانب سے کچھ مطالبات سامنے آئے، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی شامل تھے، جس کے باعث پیش رفت سست ہو گئی۔

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد دورے کے دوران نئی تجاویز سامنے آئیں، جنہیں پاکستانی حکام نے امریکی فریق تک پہنچایا۔ یہ صورتحال پاکستان کی ثالثی کوششوں کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مقصد صرف امن کا حصول ہے اور وہ کسی قسم کی تشہیر کے بجائے عملی نتائج پر توجہ دے رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان دونوں فریقین کے ساتھ اس وقت تک رابطے جاری رکھے گا جب تک دیرپا امن کا کوئی حل سامنے نہیں آ جاتا، اور آنے والے دنوں میں مزید اعلیٰ سطح روابط متوقع ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے