پاکستان قطر سیکیورٹی تعاون

پاکستان اور قطر کا سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور قطر نے داخلی سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور دوطرفہ شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قطر کے وزیر داخلہ اور داخلی سیکیورٹی فورس لخویہ کے کمانڈر شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان قطر سیکیورٹی تعاون اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے داخلی سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔ دونوں فریقوں نے اپنے موجودہ سیکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان رابطے بہتر کرنے پر اتفاق کیا۔ اس گفتگو میں مشترکہ مفادات کے معاملات پر قریبی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔

دونوں وزرا نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق امور پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے علاقائی سلامتی کے فروغ کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون کا جائزہ لینے اور سیکیورٹی معاملات میں روابط بڑھانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

محسن نقوی نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کیلئے پاکستان اور قطر کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ان مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بیان میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کیلئے دوطرفہ تعاون کی اہمیت نمایاں رہی۔

قطری وزیر داخلہ نے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اپنے ملک کیلئے اہم قرار دیا۔ شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی نے اسلام آباد کے ساتھ مضبوط روابط برقرار رکھنے میں قطر کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کے بیان سے داخلی سیکیورٹی اور دیگر دوطرفہ معاملات پر مسلسل رابطوں کی اہمیت واضح ہوئی۔

ملاقات میں دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔ دونوں فریقوں نے داخلی سیکیورٹی کے شعبے میں اپنی شراکت داری مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ تاہم، جاری کردہ تفصیلات میں کسی نئے معاہدے، منصوبے یا اس پر عمل درآمد کیلئے مخصوص مدت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

پاکستان اور قطر کے درمیان سفارتی روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون موجود ہے۔ حالیہ ملاقات دونوں ممالک کی جانب سے داخلی سیکیورٹی اور علاقائی معاملات پر قریبی رابطے برقرار رکھنے کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔ مستقبل میں تعاون کے مزید اقدامات دونوں ممالک کے مشترکہ امن و استحکام کے مقاصد میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم رپورٹ میں کسی نئے اقدام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین