خلیجی سکیورٹی میں خود انحصاری

ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کو سکیورٹی میں خود انحصاری کی ضرورت: قطر

ایران جنگ نے خلیجی سکیورٹی میں خود انحصاری کی ضرورت کو نمایاں کردیا ہے، قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا۔ ان کے مطابق خلیجی عرب ممالک کو صرف عالمی شراکت داریوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

ماجد الانصاری نے پیر کو ابوظبی میں ہلی فورم کے ایک پینل سے گفتگو کرتے ہوئے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری خلیجی ممالک کے لیے اہم ہے، تاہم یہ سکیورٹی کے لیے کافی نہیں۔

قطری ترجمان کے مطابق ایران جنگ نے خطے کے ممالک کے لیے ایک اہم سبق فراہم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کو بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی اور سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

الانصاری نے کہا کہ خطے میں موجود عالمی افواج اور امریکا کے ساتھ تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں۔ تاہم خلیجی سکیورٹی میں خود انحصاری کو مستقبل کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنانا ضروری ہے تاکہ ممالک بیرونی مدد پر مکمل انحصار سے بچ سکیں۔

ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک خطے میں پیدا ہونے والے وسیع تر سکیورٹی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے علاقائی ممالک کی دفاعی تیاریوں پر بھی توجہ بڑھا دی ہے۔

قطری عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی ممالک کو اپنی سکیورٹی ضروریات کے لیے زیادہ مضبوط داخلی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں۔ ان کے مطابق امریکا سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رہنا چاہیے، مگر اسے علاقائی تیاری کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔

ماجد الانصاری کے بیان سے خلیجی سکیورٹی کے مستقبل پر جاری بحث کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ خلیجی سکیورٹی میں خود انحصاری کا مقصد عالمی شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے خطے کے ممالک کو اپنے سکیورٹی چیلنجز سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین