مری ایکسپریس وے کی توسیع

چینی کمپنی کی پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کی پیشکش

ایک بڑی چینی کمپنی نے پاکستان کے توانائی شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے لیے جامع منصوبہ پیش کرتے ہوئے تیل و گیس، ریفائنری اپ گریڈیشن، آف شور توانائی، توانائی کے آلات کی تیاری اور دیگر شعبوں میں تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ پیشکش وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے شینڈونگ ژن شو گروپ کارپوریشن کے چیئرمین ہو جیان شن کی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق کمپنی نے پاکستان کے توانائی شعبے میں طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی خواہش ظاہر کی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ تیل و گیس کے ذخائر کی بہتری، ڈرلنگ سروسز اور پیداوار میں اضافے کے ذریعے ملکی ہائیڈروکاربن پیداوار بڑھانے میں تعاون کرنا چاہتی ہے۔

مجوزہ پاکستان کے توانائی شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے تحت کمپنی نے پاکستان کی ریفائنریوں کو جدید بنانے کی بھی پیشکش کی۔ اس مقصد کے لیے فلوئیڈ کیٹالیٹک کریکنگ (FCC) یونٹ نصب کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے فرنس آئل کو زیادہ قدر والے پیٹرولیم مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

چینی وفد نے پاکستان میں توانائی سے متعلق آلات تیار کرنے کی فیکٹری قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف مقامی صنعت کی ضروریات پوری کرنا بلکہ مشرق وسطیٰ کی منڈیوں کو برآمدات بڑھانا بھی ہے، جس سے صنعتی ترقی، روزگار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ مل سکتا ہے۔

دیگر تجاویز میں آف شور تیل و گیس کی تلاش، سیسے کی کان کنی، سلفر پراسیسنگ پلانٹ کا قیام اور پاکستان کے ساحلی علاقوں میں مربوط انرجی سٹیز کی تعمیر شامل ہے۔ ان منصوبوں میں ایل این جی انفراسٹرکچر، پیٹرولیم ذخیرہ گاہیں اور پیٹروکیمیکل صنعتیں بھی شامل ہوں گی۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ان تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے، توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہر منصوبے کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ پیش رفت تیزی سے ہو سکے۔

پاکستان کے توانائی شعبے میں چینی سرمایہ کاری کی یہ تجاویز پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون کی عکاسی کرتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے ملکی توانائی پیداوار، صنعتی ترقی، برآمدات اور مجموعی اقتصادی استحکام کو نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین