پاکستان روس حوالگی معاہدہ

پاکستان اور روس کا حوالگی معاہدہ حتمی شکل دینے پر اتفاق

پاکستان اور روس نے حوالگی معاہدے کو حتمی شکل دینے اور منظم جرائم کی روک تھام کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان روس حوالگی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ اتفاق بدھ کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کے درمیان ملاقات میں ہوا۔ وزارت داخلہ کے مطابق ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔ روسی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر پیر کو چار روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔

دونوں ممالک نے مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر حوالگی معاہدے کو حتمی شکل دینے، مجرموں کے تبادلے سے متعلق معاہدے اور افراد کی واپسی کے معاہدے پر جلد عمل درآمد کے امور زیر بحث آئے۔ دونوں فریقوں نے منظم جرائم کی روک تھام اور معلومات کے تبادلے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی اتفاق کیا۔

محسن نقوی نے مجوزہ مفاہمتی یادداشت کو دوطرفہ تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس اور روس کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ وزارت داخلہ کے مشترکہ ورکنگ گروپس جلد ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ تعاون کے عملی طریقہ کار پر پیش رفت کی جا سکے۔

مذاکرات میں سائبر کرائم کی روک تھام بھی اہم موضوع رہا۔ پاکستان اور روس نے نیشنل پولیس اکیڈمی اور روسی پولیس اکیڈمی کے درمیان تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ محسن نقوی نے سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے روس کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ظاہر کی۔ روسی وزیر داخلہ نے کہا کہ مؤثر اقدامات کے ذریعے ان کے ملک میں سائبر کرائم میں 33 فیصد کمی آئی ہے۔

دونوں ممالک نے سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے ویزا سہولتیں بہتر بنانے اور پاکستانی ہنرمند کارکنوں کو روس بھیجنے کے امکانات پر بھی بات کی۔ محسن نقوی کے مطابق ویزا طریقہ کار آسان بنانے سے عوامی روابط مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 1,300 پاکستانی طلبہ روس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پاکستان اس تعداد میں اضافہ چاہتا ہے۔

روسی وزیر داخلہ نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی سمیت منظم جرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان اور روس اپنے اقتصادی اور توانائی کے تعلقات بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔ پاکستان نے 2023 میں روسی خام تیل درآمد کرنا شروع کیا تھا۔ مجوزہ پاکستان روس حوالگی معاہدہ اور دیگر انتظامات دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین