پی ایس ایکس مارکیٹ تیزی منگل کے روز اس وقت دیکھنے میں آئی جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 2400 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اس اضافے کی بڑی وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
کاروباری سیشن کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل مثبت رجحان میں رہا اور مختلف شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھنے میں آئی، جس میں بینکنگ، سیمنٹ، آٹو موبائل اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔
پی ایس ایکس مارکیٹ تیزی کے دوران انڈیکس نے 175,298.11 کی بلند ترین سطح کو چھوا جبکہ کم ترین سطح 173,405.57 ریکارڈ کی گئی۔ ٹریڈنگ کا حجم بھی کافی زیادہ رہا۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں یہ تیزی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی امیدوں کے باعث آئی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
تیل کی قیمتوں میں کمی نے مہنگائی کے خدشات کو کم کیا ہے جس سے ابھرتی ہوئی معیشتوں جیسے پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کو سہارا ملا ہے۔
مارکیٹ میں خاص طور پر بینکنگ، سیمنٹ اور آئل سیکٹر میں نمایاں خریداری دیکھی گئی، جس نے مجموعی رجحان کو مزید مضبوط کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی پیش رفت مثبت رہی تو پی ایس ایکس مارکیٹ تیزی آئندہ دنوں میں بھی جاری رہ سکتی ہے، تاہم عالمی صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔